10

قید تنہائی کا جھوٹ، کالم نگار عمر فاروق کے ساتھ

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے صادق اور امین قرار دیئے جانے والے عمران خان جب سپریم کورٹ میں نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی دوران ویڈیولنک کے ذریعے پیش ہوئے تو انہوں نے دو ہائی دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بد تہائی میں رکھا گیا ہے وکلا کی بھی مجھ سے ملاقات نہیں کروائی جاتی۔ عمران خان کے اس تاریخی جھوٹ پر حکومت کی دوڑیں لگ گئیں اگلی پیشی پر وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرواتے ہوئے اڈیالہ جیل میں ان کے سیل اور سہولیات کی تصاویر بھی پیش دیں۔
اس رپورٹ پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ محمد شفقت عباسی کا نام درج ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی ان دستاویزات پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخط بھی ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں روم کولر، ٹی وی اسٹڈی ٹیبل ، کرسی ، چہل قدمی کیلئے خصوصی گیلری ، پسند کا کھانا بنانے کے لیے الگ کچن میوہ جات ، بیڈ، کتابیں اور ورزش کی مشینوں سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عدالت کو عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔
اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر عدالت مناسب اور ضروری سمجھتی ہے تو عدالت کے سامنے جمع کرائے گئے حقائق کی تصدیق کے لیے کسی جوڈیشل افسر کو بطور کمیشن تعینات کر سکتی ہے۔ عمران نیازی کے اس جھوٹ کے بے نقاب ہونے کے بعد پارٹی رہنماء نجی انقلاب اور خود عمران خان شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے پھر سے شروع ہو گئے کہ عمران خان کو موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اور وہقید تنہائی کا شکار ہیں۔
اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی 30 مئی کی عدالتی کارروائی کے جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ اس بات کا قوی امکان تھا کہ جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ جو اس عدالت کا وکیل بھی نہیں کہی مقدے میں عدالت سے مخاطب ہوگا تو وہ سیاسی نوعیت کے معاملات پر بھی بات کرے گا اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پوائنٹ سکورنگ بھی کرے گا۔ عمران خان احمد خان نیازی نے بعد میں عدالت میں نیب ترامیم والے مقدمے پر کام کرتے جانے کا ابھی کہاں کئے خطاب کرتے ہوئے یہ ثابت بھی کیا وہ کیسے اس مقدمے سے ہٹ کر غیر متعلقہ موضوعات پر چلے گئے اور جیل سے متعلق شکایات شروع کر دیں۔ فیصلے کے مطابق عدالت کسی ایسے مقدمے کو نہیں سن سکتی جو اس کے سامنے نہ ہو اور جس سے پھر کسی کے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو سکے۔
اظہر من اللہ جو از خود کالے بھونڈ ہیں نے قاضی فائز بھیسی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بانی پی ٹی آئی بھی عام قیدی نہیں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے کئی ملین پیروکار ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ بہر حال حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ عمران خان کے لیے جیل میں الگ کچن موجود ہے۔ تاہم دستاویز میں موجود ایک تصویر جس کے نیچے یہ عبارت درج ہے، اس میں ایک الماری کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں عمران خان کے لیے شخص کھانے پینے کی اشیا بھی کی ہیں دستاویزات میں موجود ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس الماری میں کولڈ ڈرنکس، دلیہ اسپغول، بادام سمیت دیگر کھانے پینے کی چیزیں موجود ہیں۔ دستاویز میں یہ بی بتایاگیا ہے کہ کھانے کے مینو کا فیصلہ خود عمران خان ہی کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سال مارچ میں یہ رپورٹ آئی تھی کہ قید تنہائی کا یہ محرم 8 ماہ کے دوران 35لاکھ روپے سے زائد کا کھانا کھا گیا۔ مطلب ایک ماہ میں تقریبا چھ لاکھ روپے کا کھانا تناول فرمایا۔ عدالتی دستاویزات میں دعوی کیا گیا ہے کہ عمران خان کے مطالبے پر ان کو مطالعے کے لیے کتا بیں فراہم کی گئی ہیں۔ حکومت نے ان دستاویزات میں ان کتابوں کی تصویر بھی عدالت میں پیش کی ہے۔ اس تصویر میں دیکھا سکتا ہے کہ ان کتابوں میں 13 ویں صدی کے صوفی شاعر مولانا جلال الدین رومی، جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف جدو جہد کی علامت سمجھے جانے والے رہنما نیلسن منڈیلا اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی زندگی پربھی کتا میں شامل ہیں اس کے علاوہ ایک کتاب جس کا عنوان ریاستیں کیوں ناکام ہوتی ہیں، ابن خلدون کی شہرہ آفاق کتاب مقدمہ، این اتول لیون کی پاکستان اے ہارڈ کنٹری، دی برٹش ان انڈیا پیغمبر اسلام کی زندگی کے بارے میں کتاب دی ۔ سیل ڈیکر سمت کی اور کتابیں بھی موجود ہیں ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد بھی اگر عمران خان ملک کی سب سے بڑی عدالت کے کی سامنے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان پ ان کتابوں کا کوئی اثر نہیں ہوا
ان دستاویزات کے مطابق عمران خان کو جیل میں اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھنے کے لیے ورزش کی مشینیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں ورزش والی سائیکل جبکہ ایک دوسری تصویر میں سٹریچنگ بیلٹ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کو دن میں دو بار جیل میں موجود ایک بیرک کی خصوصی راہداری میں چہل قدمی کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو گذشتہ برس تمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں گذشتہ برس 28 ستمبر سے لے کر رواں برس 30 مئی تک، عمران خان سے ملنے آنے والے مہمانوں کی مہینہ وار فہرست بھی پیش کی گئی ہے۔ اس فہرست میں عمران خان کی بہنوں، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قیدی تنہائی کے اس محرم نے اس دوران 105 ملاقاتیں کیں، ( تقریبا ہر دو دن بعد خان صاحب نے ایک ملاقات کی ہے۔ اور پارٹی امور بھی چلائے ، حتی کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے سینیٹ کے امیدواروں کا فیصلہ بھی بانی پی ٹی آئی نے ہی کیا۔ (ا خان صاحب جیل میں بیٹھ کر امریکی ان نے ہی اور برطانوی اداروں کوانٹرویو بھی دے دیتے ہیں کالم بھی تحریر کر دیتے ہیں، پارٹی رہنماؤں کی نامزدگیاں بھی کر دیتے ہیں
ملاقاتوں کا یہ سلسلہ 28 ستمبر 2023 سے شروع ہوا، جو تاحال جاری ہے۔ اس دوران گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلی خالد خورشید اور موجودہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملے۔ سابق صدر مملکت عارف علوی سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم کے علاوہ شوکت خانم اور پمز اسپتال کے ڈاکٹروں اور متعدد سیاست دانوں نے بھی جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے 28 ستمبر 2023 کو 6 افراد نے ملاقات کی، اکتوبر 2023 میں بانی پی ٹی آئی سے 43 افراد نے 12 ملاقاتیں کیں۔ نومبر 2023 میں 52 افراد نے 13 ملاقاتیں کیں۔ دسمبر 2023 میں بانی پی ٹی آئی سے 48 افراد نے 13ملاقاتیں کیں۔
جنوری 2024 میں پانی پی ٹی آئی سے جیل میں 17 افراد کی 8 ملاقاتیں ہوئیں۔ فروری 2024 میں پانی پی ٹی آئی سے جیل میں 74 افراد نے 19 جبکہ مارچ 2024 میں بانی پی ٹی آئی سے 53 افراد نے 1 ملاقاتیں تمھیں۔ اپریل 2024 میں پانی پی ٹی آئی سے جیل میں 154 افراد نے 15 ملاقاتیں کیں اور مئی 2024 میں 56 افراد نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں 13 ملاقاتیں کیں۔ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کو جو سہولیات میسر ہیں وہ اے کلاس کی ہیں قید تنہائی کا رونا رونے والے عمران خان نے اپنے دور میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا قوم کو سب یاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں