5

کتب اور مطالعے کے حوالے سے ہمارا مجموعی قومی مزاج اور نفسیات بہت دلچسپ ہے ، کالم نگار ، نصیر احمد ناصر

کتب اور مطالعے کے حوالے سے ہمارا مجموعی قومی مزاج اور نفسیات بہت دلچسپ ہے۔ چند سال پہلے جب صریر پبلی کیشنز نے راولپنڈی میں کتابوں کا شوروم بنایا تو میں اکثر وہاں جایا کرتا تھا۔ ایک بار دیکھا کہ نو دس سال کا ایک بچہ شو روم کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھا ایک کاغذ ہاتھ میں لیے پڑھ رہا ہے۔ میں نے اسے پوچھا کہ آپ کو پڑھنے کا شوق ہے؟ اس نے کہا بہت زیادہ لیکن میں کتابیں نہیں خرید سکتا، کہیں بھی جو پھٹی پرانی کتاب یا کاغذ مل جائے اٹھا کر پڑھ لیتا ہوں۔ میں نے شو روم سے بچوں کی کچھ کتابیں لے کر اسے دیں، وہ بہت خوش ہوا اور وہیں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ اس سے میرے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ یہاں ایک فری بک کارنر بنا دیا جائے۔ میں نے ہاشمی صاحب (شوروم کے مالک) سے بات کی، وہ اس آئیڈیا پہ بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ میں نے اپنی ذاتی لائبریری سے سینکڑوں کتابیں اور ادبی جرائد اٹھوائے اور شوروم کی ایک نُک پہ شیلفوں میں رکھوا کر فری بک کارنر کا بینر لگوا دیا۔ ابتدا میں یہ اصول رکھا گیا کہ کتابیں لے جانے والے پڑھ کر واپس یہاں رکھ جائیں اور کوئی چاہے تو اپنی طرف سے بھی کتابیں ڈونیٹ کر دے تاکہ مذید لوگ ان سے استفادہ کر سکیں اور یہ سلسلہ چلتا رہے، لیکن یہ اصول زیادہ دن نہ چل سکا کیونکہ کوئی بھی کتابیں واپس نہیں کرتا تھا۔ تین چار ماہ میں ساری کتابیں ختم ہو گئیں۔ آخر میں کچھ ادبی رسالے رہ گئے۔ ایک روز ایک صاحب اوراق، فنون اور صریر کے پرانے شمارے ڈھونڈتے ہوئے آئے اور سارے رسائل لے گئے اور فری بک کارنر ایک خالی کارنر رہ گیا۔

اس دوران کچھ دلچسپ مشاہدات و واقعات بھی ہوئے۔ ایک بار میں نے شو روم میں درمیانی عمر کے ایک کپل یعنی میاں بیوی کو دیکھا۔ خاتون بڑے انہماک سے مختلف کتابیں دیکھ رہی تھیں اور کتاب اٹھانے کے بعد سب سے پہلے وہ اس کی قیمت دیکھتی تھیں جبکہ میاں صاحب تو کوئی بہت ہی کتاب بیزار بلکہ چہرے سے مردم بیزار بھی لگ رہے تھے اور بار بار بیوی کو ڈانٹ رہے تھے کہ چلو بھی اب بس کرو کتابیں دیکھنا، ان کا کیا کرو گی لینی ہے تو کوئی اور کام کی چیز لو۔ پھر انہوں نے خاتون کے ہاتھ سے کتابیں تقریباً چھین کر زور سے کاؤنٹر پہ رکھیں اور شو روم سے باہر جانے کے لیے کھینچنے لگے۔ میں نے یہ دیکھا تو خاتون کو فری بک کارنر کا بتایا کہ یہاں سے جتنی کتابیں چاہے لے جائے۔ یہ سن کر خاتون کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ اس نے شوہر سے ہاتھ چھڑایا اور جلدی جلدی دس بارہ کتابیں اٹھا لیں۔ اس کا انتخاب عمدہ تھا۔ لیکن اس کے بدبخت شوہر سے یہ برداشت نہ ہوا اور اس نے خاتون سے کتابیں چھین کر واپس رکھ دیں۔ میں نے اور شوروم کے انچارج نے بہت کہا کہ یہ فری ہیں ان کی کوئی قیمت اسے ادا نہیں کرنی۔ لیکن وہ یہ کہتا ہوا بیوی کو باہر لے گیا کہ فری ہیں تو کیا اس نے کتابیں ہی پڑھنی ہیں اور کچھ نہیں کرنا۔ خاتون کی بے بسی اور مایوسی دیکھ کر میرا دل ملول ہو گیا۔

اس تجربے کے کچھ عرصہ بعد میرے ایک دوست ریٹائرڈ کرنل ملنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس راولپنڈی کے نواح میں مین کہوٹہ روڈ پر ایک کھلی سی جگہ ہے جہاں دو تین کمرے بھی بنے ہوئے ہیں اور وہ اس پر ایک لائبریری بنانا چاہتے ہیں جہاں سے لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے کتابیں لے جائیں اور پڑھ کر واپس رکھ دیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے ان کے منصوبے کی نہ صرف تعریف و تائید کی بلکہ اُس وقت تک مختلف احباب اور اداروں سے موصول ہونے والی جتنی کتابیں میرے پاس جمع ہو چکی تھیں وہ بھی ان کی گاڑی کی ڈگی میں اور پچھلی سیٹ پر رکھوا دیں۔ کچھ دنوں بعد کرنل صاحب ملے تو بہت خوش تھے اور حیران تھے کہ مضافاتی اور نسبتاً دیہی علاقے میں بھی اتنے لوگ کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں خاص طور پر بچے، بچیاں اور نوجوان لڑکے ؒلڑکیاں۔ انہوں نے مذید کتابوں کی استدعا کی۔ میں مختلف ذرائع سے انہیں مذید کتابیں بھجواتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد کرنل صاحب پھر ملنے آئے۔ میں نے لائبریری کا پوچھا۔ انہوں نے قہقہ لگایا اور بتایا کہ وہ تو ختم ہو گئی۔ اب وہاں ایک اکیڈمی (ٹیوشن سینٹر) کھول لی ہے۔ میں نے مصنوعی حیرانی کا اظہار کیا کہ آپ تو بڑے پُر جوش اور پُر امید تھے۔ کہنے لگے میں آپ کی عطیہ کی ہوئی کتابوں کے علاوہ کئی بار کتابیں خرید خرید کر وہاں رکھتا رہا۔ لوگ کتابیں لے جاتے تھے لیکن واپس ایک بھی کتاب نہیں آتی تھی حتیٰ کہ ایک روز کتابوں والا کمرہ خالی ہو گیا۔ میں اُن کی طرح بلند عسکری قہقہ تو نہ لگا سکا بس مسکرا کر رہ گیا۔

نصیر احمد ناصر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں